
راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کاکام 94 فیصداور پاک ایران سرحد پر 71 فیصد مکمل ہو گیا ہے۔مغربی سرحد پر صورتِ حال ہمیشہ چیلنجنگ رہی ہے، 2021ء میں آپریشن کے بعد پاک افغان بارڈر پر مکمل ریاستی رٹ بحال کی گئی،باڑ کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں، انہیں محفوظ بنانا ہے، باڑ لگانے میں شہداء کا خون شامل ہے، یہ امن کی باڑ ہے جو ہر حال میں مکمل ہو گی، اکا دُکا واقعات کو بردباری سے حل کرنا ہے، مقصد ایک ہی ہے کہ امن قائم ہو، اس سلسلے میں دونوں حکومتیں رابطے میں ہیں. انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سنگین انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے، آرمی چیف نے مختلف وفود سے ملاقاتوں میں اس امر کی نشاندہی کی ہے، آپریشن رد الفساد، دیگر آپریشنز کے مقابلے میں مختلف تھا، جس کے دوران 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی 1200 سے زائد پوسٹیں ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ 2021ء میں افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈرز پر واچ ٹاور بنائے گئے، ایف سی بلوچستان اور ایف سی کے پی کے لیے نئے ونگ قائم کیے گئے، بلوچستان اور کے پی میں پولیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا تھا، اب انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے جاری ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین ماحصرہ اگست 2019 سے جاری ہے۔ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ڈیل کے ذریعے واپسی کی خبریں قیاس آرائی ہے، اگر کوئی ڈیل کی بات کررہا ہے اسی سے سوال کیا جائے کہ کون ڈیل کررہا ہے، اس کے محرکات کیا ہیں، ڈیل کی خبریں بے بنیاد ہیں۔


































