
This US Army handout file image taken February 27, 2011 shows an MQ-1C Gray Eagle armed with Hellfire missiles Camp Taji, Iraq. In a reversal, President Barack Obama will allow lawmakers access to secret documents outlining the legal justification for drone strikes that kill US citizens abroad who conspire with Al-Qaeda. An administration official disclosed the move February 6, 2013 on the eve of a Senate hearing on Obama’s nomination of his top White House anti-terror adviser John Brennan to lead the Central Intelligence Agency in his second term. AFP PHOTO/HANDOUT/US ARMY /1st Lt. Jason Sweeney = RESTRICTED TO EDITORIAL USE – MANDATORY CREDIT ” AFP PHOTO / US ARMY /1st Lt. Jason Sweeney ” – NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS – DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS = (Photo by HO / US ARMY / AFP)
واشنگٹن : امریکا نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر یوکرین کو چار بڑے مسلح ڈرونز کی فروخت روک دی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے ڈرونز کی فروخت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یہ دشمنوں کے ہاتھوں میں بھی جا سکتے ہیں۔ یوکرین کو مسلح ڈرونز ’گرے ایگلز‘ فروخت کرنے کے فیصلے کی منظوری وائٹ ہاؤس دے چکا ہے۔ محکمہ دفاع کے مطابق ڈرونز میں نصب راڈار اور نگرانی کے آلات تک اگر روس کو رسائی مل گئی تو یہ امریکہ کی سیکیورٹی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے قبل ان خدشات کو نظر انداز کیا گیا تھا تاہم گزشتہ ہفتے محکمہ دفاع کے اجلاسوں میں انہیں اٹھایا گیا ہے جس کے بعد یوکرین کو ان کی فروخت فی الحال روک دی گئی ہے۔ محکمہ دفاع کے ترجمان سو گوف کا کہنا ہے کہ امریکی دفاعی سامان کی دوسرے ممالک کو ٹرانسفر سے قبل ٹیکنالوجی کی سیکیورٹی کا جائزہ لینا ایک معمول کا عمل ہے اور تمام کیسز کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام یوکرین کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد اس سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان ڈرونز میں ہیل فائر میزائل بھی نصب کیے جا سکتے ہیں جو یوکرین جنگ کے دوران روس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔امریکی فوج کی بجٹ دستاویزات کے مطابق ایک ڈرون کی قیمت 10 ملین ڈالر ہے۔


































