Mon Oct 12, 2026

ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی

روزانہ کی خبریں

پاکستان اور افغانستان میں شدید غذائی بحران کا خدشہ

A farmer checks wheat ripeness on a field in Donetsk region, Ukraine, Tuesday, June 21, 2022. Russian hostilities in Ukraine are preventing grain from leaving the "breadbasket of the world” and making food more expensive across the globe, threatening to worsen shortages, hunger and political instability in developing countries. (AP Photo/Efrem Lukatsky)

نیویارک: اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغانستان میں شدید غذائی بحران کے خدشات ظاہر کردئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے پاکستان اور افغانستان میں غذائی عدم تحفظ اور قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے, رپورٹ میں رواں ماہ سے نومبرتک کا احاطہ کیا گیا ہے اور غذائی عدم تحفظ کی وجہ معاشی و سیاسی بحران کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 8.5 ملین سے زائد افراد کو ستمبر اور دسمبر 2023 کے درمیان شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ افغانستان میں 70 فیصد لوگوں کو دن میں دو وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ پاکستان میں لوگوں کی خوراک اور دیگر ضروری اشیاء خریدنے کی سکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سیاسی انتشار کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج میں مسلسل تاخیر ہے۔ اگر سیاسی و معاشی بحران میں اضافہ ہوا تو غذائی بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، وسطی افریقی جمہوریہ، ایتھوپیا، کینیا، کانگو اور شام تشویش ناک حد تک خوراک کی کمی کے شکار ہونے کے دائرے میں ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular