
A farmer checks wheat ripeness on a field in Donetsk region, Ukraine, Tuesday, June 21, 2022. Russian hostilities in Ukraine are preventing grain from leaving the "breadbasket of the world” and making food more expensive across the globe, threatening to worsen shortages, hunger and political instability in developing countries. (AP Photo/Efrem Lukatsky)
نیویارک: اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغانستان میں شدید غذائی بحران کے خدشات ظاہر کردئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے پاکستان اور افغانستان میں غذائی عدم تحفظ اور قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے, رپورٹ میں رواں ماہ سے نومبرتک کا احاطہ کیا گیا ہے اور غذائی عدم تحفظ کی وجہ معاشی و سیاسی بحران کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 8.5 ملین سے زائد افراد کو ستمبر اور دسمبر 2023 کے درمیان شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ افغانستان میں 70 فیصد لوگوں کو دن میں دو وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ پاکستان میں لوگوں کی خوراک اور دیگر ضروری اشیاء خریدنے کی سکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سیاسی انتشار کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج میں مسلسل تاخیر ہے۔ اگر سیاسی و معاشی بحران میں اضافہ ہوا تو غذائی بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان، وسطی افریقی جمہوریہ، ایتھوپیا، کینیا، کانگو اور شام تشویش ناک حد تک خوراک کی کمی کے شکار ہونے کے دائرے میں ہیں۔


































