
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر چیف جسٹس نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہاہے کہ عدالتی امور میں ایگزیکٹو کی کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عدلیہ کی آزادی پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیاہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خط لکھنے والے ججز سے ملاقات کی اور اُن کے تحفظات سنے۔اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے ججز کے خط کے فوری بعد ملاقات کی، سپریم کورٹ کے تمام ججز نے اتفاق رائے سے چیف جسٹس کی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم چیف جسٹس ملاقات میں اعلیٰ سطح کے انکوائری کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقات میں شہباز شریف نے عدالتی آزادی اور خودمختاری پر کوئی قدغن نہ آنے اور اس کے لیے تمام اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے پیراگراف 53 کے مطابق قانون سازی کی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کیساتھ ملاقات میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی بھی صورت عدلیہ کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس منصور علی شاہ نے کہا عدلیہ کی آزادی وہ بنیادی ستون ہے جس کے سبب قانون کی حکمرانی اور مضبوط جمہوریت قائم ہوتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا انکوائری کمیشن کی تشکیل کیلئے کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ متعلقہ محکموں کو ہدایات کے علاوہ ضروری قانون سازی بھی کی جائے گی۔


































