Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کی درخواست پر جبری گمشدگی کیسز کی موثر تفتیش کیلئے تین ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے 14 فروری تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ صحافی مدثر نارو کو یونیفارم والے اٹھا کر لے گئے جسکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے مگر تفتیش میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف کے مترادف ہیں، ایسے کیسز میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ ریاست خود ملوث ہو تو تفتیش کون کریگا؟عدالت رپورٹ نہیں ایکشن چاہتی ہے۔ منگل کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی و بلاگر مدثر نارو سمیت دیگر لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہاکہ تمام کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا، مدثر نارو کی فیملی کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کرائی گئی، گزشتہ ایک دہائی کے دوران کافی تعداد میں لوگ غائب ہوئے، کچھ لوگ کے پی کے حراستی مراکز میں ہیں، حراستی مراکز سے متعلق ایک قانون بنا تھا اور وہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہا ، ایک نیا قانون لایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ایک چیف ایگزیکٹو نے کتاب میں لکھا کہ یہ پالیسی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا وہ غاصب تھے ، وہ تو مکا بھی دکھا رہے تھے اب مفرور اور اشتہاری ہیں ، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور عمران خان سمیت کسی وزیراعظم کی یہ پالیسی نہیں تھی کہ لوگوں کو غائب کیا جائے انکی وہ پالیسی نہیں تھی جو کتاب والے کی تھی، اگرکسی کی نشاندہی ہوجائے اور چیف ایگزیکٹو ایکشن نہ لیں تو وہ جوابدہ ہیں اگر ایک دفعہ کسی کو سزا ہوجائے تو اچھا پیغام جائیگا، درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ حراستی مرکز کا دورہ کرایا جائے تو کافی لاپتا شہری بازیاب ہو سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ حراستی مرکز میں موجود تمام افراد کی شناخت اور لسٹ موجود ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ صحافی مدثر نارو کو یونیفارم والے اٹھا کر لے گئے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے مگر تفتیش میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، ایس ای سی پی افسر کو اٹھایا گیا جس نے واپس آ کر کہا کہ وہ شمالی علاقہ جات گیا تھا، آپ بتائیں اس معاملے میں کیسے آگے بڑھا جائے؟

مزید پڑھیے

Most Popular