
غزہ : فلسطینی قیدیوں نے بتایا ہے کہ جیلاد جیل میں انہیں برقی جھٹکوں کے ذریعے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ اذیت وہاں کا بنیادی ہتھیار بن چکی ہے۔
فلسطینی اسیران کمیشن اور فلسطینی پریزنرز کلب کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق نومبر میں کی گئی درجنوں ملاقاتوں نے ثابت کیا کہ جیلاد، جو اوفر حراستی کمپلیکس کا حصہ ہے،میں قیدی نہایت سخت حالات اور منظم تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ قیدیوں نے بتایا کہ سیل پر چھاپوں کے دوران برقی جھٹکوں کا مسلسل استعمال معمول بن چکا ہے۔ ایک اسیر نے بتایا کہ اس کے ساتھی قیدی کو صرف نماز کی امامت کرنے پر جھٹکے دیے گئے، جبکہ دیگر کے مطابق تازہ ہوا لینے کے لیے سلاخوں کے قریب کھڑے ہونے پر بھی انہیں سزا دی گئی۔ رپورٹ میں قیدیوں نے برقی تشدد کو انتہائی سنگین اور بے رحم اذیت قرار دیا ہے۔
فلسطینی قیدیوں نے بتایا ہے کہ انہیں جیل میں بار بیڈ پر سونے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو سخت لوہے یا کانٹے دار تار سے بنے فریم پر پتلے گدوں کے ساتھ ہوتے ہیں، اور یہ ان کی جسمانی صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔


































