
قاہرہ : مصر اور اردن نے غزہ کے فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر بسانے کی امریکی تجویز کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ عرب لیگ نے تجویز کو نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیا ہے۔ جرمنی نے کہا ہے کہ فلسطینی آبادی کو غزہ سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہئے۔
اطالوی وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس فلسطینیوں کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اردن کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا ہے کہ عمان کے اصول واضح ہیں اور فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کی حمایت کرنا ایک مضبوط اور غیر تبدیل شدہ قومی موقف ہے۔
مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین کے حق کی حمایت جاری رکھے گا اور غزہ سے بیدخلی سمیت کسی بھی تجویز کے ذریعے فسلطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقوق کی پامالی کو مسترد کرتا ہے۔
جرمن وزارت خارجہ نے کہا کہ فلسطینی آبادی کو غزہ سے بے دخل نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی غزہ پر اسرائیل کا مستقل قبضہ یا نوآبادیات بننا چاہئے۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ٹرمپ کے پاس فلسطینیوں کو کسی اور ملک میں منتقل کرنے کا کوئی متعین منصوبہ موجود ہے۔


































