
غزہ: غزہ کے الشفاء اسپتال کمپلیکس نے فوجی محاصرے اور ایندھن ختم ہونے سے آپریشن معطل کر دیا۔ آکسیجن کی کمی سے پچاس بچے دم توڑ گئے۔ غزہ میں الشفا اسپتال کے کئی گھنٹوں سے جاری محاصرے کے سبب صورتحال تشویشناک ہوگئی۔ ایندھن کے خاتمے اور اسپتال کے باہر جنگ کے سبب غزہ کے سب سے بڑے اسپتال نے کام بند کردیا۔ اسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ نرسری میں بچے اور آئی سی یو میں مریض بجلی نہ ہونے سے مر رہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں نے غزہ کے چار اسپتالوں کو کئی گھنٹوں سے گھیر رکھا ہے اور کسی بھی نقل وحرکت پر گولیاں چلا رہے ہیں۔ النصر اسپتال، گورنمنٹ آئیز اسپتال۔ مینٹل ہیلتھ اسپتال اور الرنتیسی اسپتال میں بھی ہزاروں مریض اور طبی عملہ محصور ہے۔ پناہ لینے والے بے گھرافراد کوخوراک اور پانی کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے اسرائیلی فوجی اسنائپرز نے مختلف اسپتالوں میں متعدد فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق چوبیس گھنٹے میں دو سوچھیاسٹھ افراد بمباری کاشکارہوئے ہیں ۔ اب تک مختلف طبی مراکز پر 277 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں ۔ چھتیس روز میں شہادتوں کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں ۔


































