
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں مبینہ توہین مذہب کے الزامات کے بعد متعدد گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کے واقعات سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیےکہ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل رپورٹ دیکھنے کے بعد مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماشااللہ سے 6 ماہ میں صرف یہ 18 چالان ہوئے؟ دوسری جگہوں پر جا کر اسلاموفوبیا پر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور خود کیا کر رہے ہیں؟ غیر مسلموں کے ساتھ جو سلوک بھارت میں ہو رہا ہے وہ کاپی کرنا چاہتے ہیں؟
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پولیس نے اپنی آنکھوں کے سامنے سب جلتا دیکھا؟ جڑانوالہ میں بہادر پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہی، کیا پاکستان میں پولیس صرف مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ہے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی قرآنی اوراق کی بے حرمتی کرتے ہوئے ساتھ اپنا شناختی کارڈ رکھ دے؟ کیا آپ کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ یہ سازش ہو رہی ہے؟ کیا مسیحی برادری آپ کو عقل سے محروم لگتی ہے جو توہین مذہب کر کے ثبوت بھی چھوڑے گی؟ کتنے پولیس والوں کو فارغ کیا گیا؟۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کا بنیادی فرض عوام کا تحفظ کرنا ہے، پولیس نے کہا بڑی بڑی داڑھیوں والے جتھا لے کر آ رہے ہیں تو مسیحی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کرو۔


































