
نیویارک: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے گذشتہ ماہ حماس اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کا انکشاف کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا نے حماس کی قید میں موجود امریکی شہری کی رہائی کیلئے قطر میں حماس کے عہدیدروں سے براہ راست بات چیت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام چاہتے تھے کہ حماس اپنی قید میں موجود واحد زندہ امریکی کو رہا کردے تاکہ صدر ٹرمپ کانگریس سے اپنے خطاب میں اس کی رہائی کا اعلان کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے حماس سے تین ملاقاتیں قطر میں کیں۔ امریکی ایلچی ایڈم بوہلر کی پہلی ملاقات جولائی میں حماس کے تین عہدیداروں سے ہوئی جبکہ دو دن بعد وہ حماس رہنما خلیل الحیا سے ملے۔ جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے عمر قید کے سو قیدیوں سمیت ڈھائی سو فلسطینیوں کی رہائی پر بات چیت ہوئی۔ تاہم اسرائیلی مخالفت کے باعث مذاکرات ناکام ہو گئے۔


































