Thu Oct 15, 2026

ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ

روزانہ کی خبریں

کورونا وائرس کی خطرناک قسم اومی کرون سامنے آگئی، دنیا بھر میں کھلبلی

کراچی : کورونا وائرس کی اب تک کی خطرناک ترین قسم سامنے آگئی جس نے دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچادی ہے۔ وائرس کی یہ نئی قسم جنوبی افریقا کے صوبے خاؤتنگ میں دریافت ہوئی ہے۔ اور اس کا پہلا کیس 22 نومبر کو رجسٹر ہوا۔ جس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اوریجنل کورونا وائرس کے مقابلے میں اس قدر تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں کہ کورونا کی اب تک بنائی گئی ویکسینز کی مؤثریت 40 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اور اس سے وہ افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو ویکسین لگواچکے ہیں۔ وائرس کی اس نئی قسم کو اومی کرون کا نام دیا گیا ہے۔ نئے ویرینٹ کے کیسز جنوبی افریقا کے علاوہ بوٹسوانا، لیسوتھو ، نمیبیا، اسواتینی ، زمبابوے ہانگ کانگ ، بیلجیم اور غاصب اسرائیل میں بھی سامنے آچکے ہیں۔ یہ اس سے قبل سامنے آنے والے کورونا وائرس ویرینٹ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اس میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت ہے اور ویکسین کا اثر بھی اس پر کم ہوگا۔جنوبی افریقا کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے ویرینٹ میں اتنی زیادہ تبدیلیاں ہیں کہ اس کی توقع سائنسدانوں کو نہیں تھی۔ اس ویرینٹ میں ابتدائی کورونا وائرس کے مقابلے میں تقریباً 50 تبدیلیاں ہیں جن میں سے 30 تبدیلیاں اسپائیک پروٹین میں ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے ویرینٹ کےسبب دسمبر کے وسط تک دنیا میں کورونا کی چوتھی لہر سامنے آسکتی ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular