
کراچی : کورونا وائرس کی اب تک کی خطرناک ترین قسم سامنے آگئی جس نے دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچادی ہے۔ وائرس کی یہ نئی قسم جنوبی افریقا کے صوبے خاؤتنگ میں دریافت ہوئی ہے۔ اور اس کا پہلا کیس 22 نومبر کو رجسٹر ہوا۔ جس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں اوریجنل کورونا وائرس کے مقابلے میں اس قدر تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں کہ کورونا کی اب تک بنائی گئی ویکسینز کی مؤثریت 40 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ اور اس سے وہ افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو ویکسین لگواچکے ہیں۔ وائرس کی اس نئی قسم کو اومی کرون کا نام دیا گیا ہے۔ نئے ویرینٹ کے کیسز جنوبی افریقا کے علاوہ بوٹسوانا، لیسوتھو ، نمیبیا، اسواتینی ، زمبابوے ہانگ کانگ ، بیلجیم اور غاصب اسرائیل میں بھی سامنے آچکے ہیں۔ یہ اس سے قبل سامنے آنے والے کورونا وائرس ویرینٹ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اس میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت ہے اور ویکسین کا اثر بھی اس پر کم ہوگا۔جنوبی افریقا کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے ویرینٹ میں اتنی زیادہ تبدیلیاں ہیں کہ اس کی توقع سائنسدانوں کو نہیں تھی۔ اس ویرینٹ میں ابتدائی کورونا وائرس کے مقابلے میں تقریباً 50 تبدیلیاں ہیں جن میں سے 30 تبدیلیاں اسپائیک پروٹین میں ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے ویرینٹ کےسبب دسمبر کے وسط تک دنیا میں کورونا کی چوتھی لہر سامنے آسکتی ہے۔


































