Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

برطانیہ سے مجرمان کے تبادلے کا معاہدہ، حکام سے مزید مشاورت کا فیصلہ

اسلام آباد : پاکستان میں وزارت داخلہ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ برطانیہ سے مجرمان کے تبادلے کے معاہدے کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کرنے سے قبل اس پر برطانوی حکام سے مزید مشاورت کی جائے گی۔ وزارت داخلہ سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی واپسی کےمعاہدے سے متعلق وزارت داخلہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ کابینہ کی معاملے پر تشکیل دی گئی خصوصی وزارتی کمیٹی نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی واپسی کے معاہدے سے متعلق اہم فیصلے کیے۔ خصوصی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور مشیر برائے داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکریٹری وزارت قانون، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔بیان کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ مجرمان کی واپسی کے معاہدے پر بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیے جائیں گے۔وزارت داخلہ کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ معاہدے کو وفاقی کابینہ میں لے جانے سے پہلے برطانیہ سے مزید مشاورت کی جائے گی۔معاہدے سے پاکستان اور برطانیہ اپنے سزا یافتہ مجرمان کو ایک دوسرے کے ممالک واپس بھیج سکیں گے۔معاہدے سے صرف ایسے شہریوں کو واپس لانے کی اجازت ہوگی جن کو متعلقہ عدالتیں سزائیں سنا چکی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکام سے مشاورت کے بعد معاہدے کو وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ مجرمان واپسی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اکتوبر 2019 میں منعقد ہوا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular