
کویت میں بین الاقوامی قرضے کیلئے قانون سازی کی کوششیں،30بر س میں 20ارب ڈالر قرض لیا جائے گا،ورنہ ہر معاملے میں بحران کا سامنا کرنا پڑے گا
سعودی عرب میںٹیکس کی شرح بڑھادی گئی،رہائشی سبسڈی منسوخ، سعودی حکام اب 320 ارب ڈالرکے پبلک انویسٹمنٹ فنڈپر انحصار کریں گے، رپورٹ
ابوظہبی (نیوز ڈیسک) کورونا وائرس کی وبا سے عرب معیشتیں بھی لڑکھڑا کر رہ گئی ہیں اور امیرترین سمجھی جانیوالی ریاستیں بھی اب قرض مانگنے پر مجبور ہوگئی ہیں، لاک ڈاو ¿ن کے باعث تیل کی کھپت اور قیمت میں کمی نے عرب ریاستوں کے سب سے بڑے ذریعہ آمدن کو بہت نقصان پہنچایا ہے، کویت میں ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے کہ وہ قرضے کیلئے بین الاقوامی منڈی کا در کھٹکھٹا سکے اگر قرضوں سے متعلق قانون منظور نہیں ہواتو حکومت کو ہر معاملے میں بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کویت تیس برس میں 20 ارب ڈالر تک قرض لینے کا فیصلہ کرچکا ہے، گذشتہ چند برسوں میں دیگر خلیجی ممالک بھی قرض کے لیے بین الاقومی منڈیوں میں جا چکے ہیں ،سعودی عرب بھی اسی کشتی کا سوارہے ،جہاں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا گیا ہے اور ماہانہ رہائشی سبسڈی بھی منسوخ کر دی گئی ہے، یہ فیصلہ حکومتی محصولات میں 22 فیصد کمی کے بعد کیا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک یمن میں جنگ نے سعودی خزانے کو بغیر کسی خاص فائدے کے نچوڑا ہے،وبائی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی عرب کے مرکزی بینک کو 26 ارب ڈالر کا نقصان محض مارچ میں اٹھانا پڑا،سعودی حکام اب 320 ارب ڈالرکے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ پرانحصار کریں گے ،اسو قت سعودی عرب کا سالانہ خرچ 300 ارب اور تیل کی آمدن 150 ارب ڈالر کے قریب ہے


































