
اسلام آباد: این سی او سی نے کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں این سی او سی اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں احتیاطی تدابیر پر 31 جنوری تک عمل جاری رکھنے اور شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فرروی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی وزارتِ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ کراچی سمیت ملک کے 7 شہروں میں کورونا کیسز کی مثبت شرح 10 فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔ کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کہ گنجائش کی اجازت ہوگی، اور 300 افراد آؤٹ ڈور اجتماعات کر سکیں گے، 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں انڈور شادی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جب کہ ان شہروں میں ڈائن ان پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ این سی او سی کے مطابق کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 12 سال سے کم عمر طلبا 3 دن 50 فیصد آئیں گے، اور 12 سال سے زائد عمر کے اسٹوڈنٹس کی مکمل حاضری ہوگی، تاہم 12 سال کے زائد عمر کی طلبا کے لیے ویکسینیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ این سی او سی کے بیان کے مطابق انڈور جمز کو 50 فیصد فراد کی گنجائش کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی، سینما، مزارات اور پارکس میں بھی 50 فیصد افراد کی شرط عائد کی گئی ہے، 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں تمام قسم کی کنٹیکٹ اسپورٹس پر بھی پابندی ہوگی، پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی 70 فیصد افراد کی گنجائش کے ساتھ کام جاری رکھنے کی ہدایات کی گئی ہے، این سی او سی کی جانب سے کاروباری اوقات اور دفاتر کے اوقات کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔


































