
نئی دہلی : بھارتی پارلیمنٹ لوک سبھا نے متنازعہ اور مسلم دشمن وقف ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ ہندوستان کے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے گذشتہ روز وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔ بل پر بحث کا سلسلہ رات دو بجے تک جاری رہا۔ بحث کے اختتام پر ووٹنگ میں بل کو دو سو بتیس کے مقابلے میں دو سو اٹھاسی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔ بل آج راجیہ سبھا سے منظور کرایا جائے گا۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہاکہ وقف بل کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور وقف میں کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کو شامل کرنے کی بات مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔ اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہاہےکہ وقف ترمیمی بل کا مقصد مسلمانوں کو پسماندہ بنانا اور جائیداد حقوق کو غضب کرنا ہے۔ یہ بل ہندوستان کے تصور پر حملہ اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمینٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بل آرٹیکل 25، 26 کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وقف بل مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو ذلیل کرنا ہے۔ یہ بیان دینے کے بعد اویسی نے بل پھاڑتے ہوئے کہا کہ میں گاندھی کی طرح وقف بل کو پھاڑتا ہوں۔ بارہمولہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ انجینئر عبدالرشید شیخ نے کہاکہ بی جے پی کھل کر مسلمانوں کو ان کی اوقات یاد دلاتی ہے یہ سچائی ہے۔


































