
تہران : ایران نے تصدیق کی ہے کہ جوہری معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے پرعمان کے ذریعے امریکا سے بلاواسطہ بات چیت جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ ایران نے کبھی سفارتی راستوں کو بند کیا اور نہ ہی مذاکرات کی میز کو چھوڑا۔ ہم نے جوہری معاہدے کی بحالی اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ہمیشہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمان کے ذریعے دوسرے فریق کے ساتھ پابندیوں کے خاتمے پر پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔ فریق ثانی کی جانب سے رسمی اور عملی جواب کا انتظار ہے۔ ترجمان کا مزید کہا تھا کہ امریکا سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو قیدیوں کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں منجمد اثاثوں کی بحالی کے سلسلے میں اقدامات کئے جارہے ہیں۔ امریکی غیر منصفانہ مداخلت کو روکنے کے لئے سفارتی ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ جوہری پروگرام کے بارے میں ولی امر مسلمین کی ہدایات، عوامی امنگوں اور ملکی مفادات کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے مخصوصا ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ مصر اور دیگر ممالک کے ساتھ روابط کی بحالی کا خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بیرونی افواج کی موجودگی سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ خطے کے ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے امنیت کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا چاہئے اس سے بیرونی افواج کی موجودگی کا جواز بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شام سمیت مشرق وسطی کے مختلف علاقوں میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے۔


































