
دمشق: شام میں سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ستر سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ انسانی حقوق کے ایک نگران ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ جھڑپوں کا آغاز علوی اکثریت والے علاقے لاذقیہ سے ہوا جو کئی علاقوں تک پھیل گئیں۔ لاذقیہ کے دیہی علاقوں میں سابق فوجی کمانڈر سہیل الحسن کی ملیشیا نے شامی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کئے جس میں سولہ اہلکار ہلاک ہوگئے۔ جبکہ معزول صدر بشارالاسد کے اٹھائیس وفادار جنگجو اور چار شہری بھی مارے گئے۔ جھڑپوں کے بعد لاذقیہ ۔ طرطوس ۔ حمص سمیت کئی علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا ہے۔


































