
پاراچنار: ضلعی کرم میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے لیکن حکومت اور اداروں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ گذشتہ رات بوشہرہ اور بالش خیل کے مقام پر شدید لڑائی ہوئی جس میں مزید سات مومنین شہید اور تیس زخمی ہوئے۔ تکفیریوں نے مختلف علاقوں اور راستوں سے کئی مومنین کو اغوا کرلیا تھا جس میں سے گیارہ کی لاشیں سیکیورٹی اہلکاروں نے پاراچنار میں مومنین کے حوالے کردیں۔
پانچ روز سے جاری خونریزی میں اب تک 33 مومنین شہید اور سو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ جھڑپوں میں مخالف فریق کو بھی ہر جگہ بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اب تک درجنوں تکفیری واصل جہنم ہوچکے ہیں۔ پولیس انتظامیہ۔ فورسز اور جرگہ فائر بندی میں مکمل ناکام ہیں۔ پانچ دن سے پاراچنار مکمل محاصرے میں ہے اور تمام راستے بند ہیں۔ اشیائے خورونوش ۔ فیول اور ادویات کی قلت ہے۔ پاراچنار سے پشاور مین روڈ بھی ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند ہے۔


































