
غزہ : غزہ میں امداد بند کئے جانے سے دس لاکھ بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونیسف نے کہا ہے کہ دو مارچ کے بعد علاقے میں کسی طرح کی کوئی امداد نہیں پہنچی جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کا طویل ترین عرصہ ہے۔ ادارے نے کہا کہ ان حالات میں غزہ کے لوگوں کو خوراک، پینے کے صاف پانی، پناہ کے لیے درکار اشیا اور طبی ساز و سامان کی شدید قلت درپیش ہے۔ غذائی قلت، بیماریوں اور دیگر مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں بچوں کی اموات بڑھ جائیں گی۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بچوں کو غذائی قلت سے متعلقہ طبی مسائل کا علاج مہیا کرنے والے 21 طبی مراکز بمباری یا لوگوں کو انخلا کے احکامات دیے جانے کے نتیجے میں بند ہو چکے ہیں۔


































