
جدہ : فرانس نے ایران فوبیا کو بنیاد بناکر سعودی عرب اور عرب امارات کو مزید اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچنے کے معاہدے کرلئے۔ دونوں ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام کی ترقی پر واویلا کیا اورخطے میں ایران کی سرگرمیوں کو تخریبی قرار دیکر اُن سے نمٹنے کی ضرورت سےاتفاق کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ماکرون نے انسانی حقوق کے اداروں کی تنقید کے باوجود سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اس کا دفاع بھی کیا اور کہا کہ خطے کی سب سے بڑی خلیجی ریاست کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ وہاں پورے خطے کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب کو نظرانداز کر کے خطے کے مختلف بحرانوں کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ عمانوایل ماکرون نے اپنے دورے میں سعودی عرب کو دفاع کے نام پر اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کی یادداشت پر دستخط بھی کئے۔ فرانس کے ہتھیار یمن میں استعمال کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے باوجود فرانس نے سعودی عرب کو اسلحہ کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے فرانس نے متحدہ عرب امارات کو رافیل جنگی جہازوں کی فراہمی کے 14 ارب یورو کے معاہدے پر دستخط کئے تھے ۔فرانسیسی جنگی جہازوں کے لیے یہ تاریخ کا سب سے بڑا بین الاقوامی معاہدہ ہے جو ایمانوئل میکرون اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان 2 روزہ دورے میں بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، فرانسیسی دفاعی مصنوعات کا سب سے بڑا خریدار ہے جس نے فرانسیسی فوج کے 12 کراکل ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کے معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کی کُل مالیت 17 ارب یورو ہے۔فرانس کی دفاعی صنعت کا پانچواں بڑا خریدار تھا، جب انہوں نے 47 ارب کے معاہدے کیے تھے۔


































