Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

بنگلہ دیش : حسینہ واجد حکومت نے عوامی احتجاج روکنے کے لیے 1400 مظاہرین ہلاک کیے

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بنگلا دیش میں حسینہ واجد کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ رپورٹ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ترک کی جانب سے 12 فروری کو جاری کی گئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے قتل عام میں حسینہ واجد ملوث تھیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کریک ڈاؤن میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، ہلاک افراد میں سے اکثر کو بنگلا دیش سیکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا تھا جو حکومت کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن کی باقاعدہ پالیسی کا حصہ تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین اور ان کے حامیوں پر کیے گئے پرتشدد حملوں کے شواہد ملے ہیں، اقوام متحدہ نے ان اقدامات کو انسانیت کیخلاف جرائم میں شامل کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
یکم جولائی سے 15 اگست 2024 کے دوران حکومت کے خلاف مظاہروں اور بغاوت کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، ان ہلاکتوں میں 12 سے 13 فیصد بچے تھے۔
یو این انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ترک کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن کا مقصد حسینہ واجد کی جانب سے اقتدار میں رہنا تھا۔ بنگلا دیش کی سابق حکومت، سیکیورٹی فورسز اور عوامی لیگ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث رہے۔ فولکر ترک کا کہنا تھا کہ ہم نے جو شواہد جمع کیے ہیں وہ ریاستی تشدد اور گھات لگا کر قتل کی کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں، یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ بین الاقوامی جرائم بھی بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular