
تہران : امریکا اور اسرائیل نے ایران کیخلاف جارحیت کا آغاز کردیا۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں پچاس سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیاروں میں تہران میں ایرانی صدر اور ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای کے گھر ۔ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر اور دیگر اہداف پر میزائل داغے اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ قم میں ایٹمی تنصیب پر بھی حملہ کیا گیا۔
حملے میں وزیر انٹیلیجنس اسماعیل خطیب سمیت کئی عہدیداروں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ متعدد میزائل تہران میں یونی ورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پرگرے۔ قم۔ کرج۔ شیراز۔ لورستان سمیت مختلف شہروں میں دھماکے سنے گئے اور دھویں کے بادل بھی اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تہران پر حملے شروع کردئے ہیں ایران پر پیشگی حملہ کیا تاکہ اسرائیل کے لیے خطرات کو ختم کیا جاسکے۔ سیکیورٹی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جاری حملے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا حصہ ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قطر میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے اور امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔
ادھر ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تل ابیب سمیت غاصب اسرائیل کے کئی شہروں اور فوجی ٹھکانوں پر میزائل داغے ہیں۔ جبکہ عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔


































