
جنیوا : اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے سوڈان کے شہر الفاشر میں اجتماعی ہلاکتوں کی ازسرنو اور آزادانہ تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے سربراہ وولکر ترک نے کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری نے بارہا خبردار کرنے کے باوجود مناسب قدم نہیں اٹھایا۔ الفاشر میں خون کے دھبے خلاء سے بھی نظر آ رہے ہیں لیکن عالمی برادری کی بے عملی کا داغ بھی کم نہیں۔ ترک نے کہا کہ تشدد میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی، جنسی تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور ضروری خدمات کی تباہی کی گئی ۔ ترک نے کہا کہ ہمارے پاس گلا گھونٹنے، بھوک سے مرنے، بڑے پیمانے پر قتل، بڑے پیمانے پر جنسی تشدد اور جبری نقل مکانی کے دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ نئی تحقیقاتی ٹیم کا مینڈیٹ ہے کہ الفاشر کے قتلِ عام کے ذمہ داران اور احکام جاری کرنے والوں کی شناخت کی جائے۔ ان نتائج کو آئندہ عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکتا ہے۔ وولکر ترک نے ان افراد اور کمپنیوں کو بھی متنبہ کیا جو جنگ کو ہوا دے رہے ہیں یا اس سے منافع کما رہے ہیں۔


































