
اسلام آباد: پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ کی آبادیاتی حقیقت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیاہے۔
مصر، اردن، عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشرکہ بیان میں اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ رفح کراسنگ کو یکطرفہ طور پر کھولنے کا مقصد غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو مصر منتقل کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد اور فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بیان میں رفح کراسنگ کو دونوں طرف سے کھلی رکھنے پر زور دیا گیاہے۔۔بیان میں خطے میں امن کیلئے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے غزہ میں مکمل جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔


































