
تہران: ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی کے نائب سربراہ عباس مقتدائی نے برطانیہ میں اسلامو فوبیا میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں ایک مخصوص منصوبے کے تحت اسلام مخالف سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ دو مسلمان شہریوں کو آگ لگانے کا واقعہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے لندن اور برمنگھم میں مسجد سے نکلتے وقت دو نہتے مسلمانوں کو آگ لگانے کے واقعے پر اظہار خیال کیا۔ اور برطانوی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی کے لئے کوشش کی جائے۔ مقتدائی نے مزید کہا کہ جس ملک میں نسلی امتیاز کی جڑیں مضبوط ہوں اور انسانی حقوق کو نظرانداز کرنا معمول کی بات ہو، اس میں دوغلی پالیسی کا وجود حتمی امر ہے۔ اس ملک سے شہریوں اور اقلیتی طبقات کے اعتقادی اور فکری حقوق کی توقع رکھنا بیجا ہے۔ ایران انسانی حقوق کے مختلف مسائل کے بارے میں انتہائی محتاط ہونے کے ناطے برطانوی حکام سے امید کرتا ہے کہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کی اجازت نہ دیں۔ حقوق انسانی کے عالمی منشور کے مطابق ذاتی، مذہبی اور نسلی امتیاز سے بالاتر تمام انسانوں کو زندگی کا برابر حق حاصل ہے۔ برطانوی شہریوں مخصوصا مہاجرین کے ساتھ اس معاملے میں امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی ذرائع ابلاغ اور سیاست میں منفی سرگرمیوں کی وجہ سے عوام نظریاتی لحاظ سے دوغلے پن کا شکار ہوگئے ہیں۔ گذشتہ کئی عرصے سے اسلام مخالف سوچ اور نظریات کی ترویج کی وجہ سے برطانوی معاشرے میں قوت برداشت ختم ہوگئی ہے اور اسلامو فوبیا کی وجہ سے انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔


































