
صنعا: یمنی مزاحمتی تنظیم انصار اللہ کے پولیٹیکل بیورو چیف محمد البخیتی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ فوجی آپریشن روکنے کے معاہدے میں اسرائیل جانے والے بحری جہاز شامل نہیں۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ صیہونی بحری جہازوں کے علاوہ باقی سب بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور باب المندب سے آزادانہ طور پر گزر سکتے ہیں۔ محمد البخیتی نے مزید کہا کہ یمن پر جارحیت کی وجہ سے واشنگٹن کو بھاری مالی و عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔
دوسری جانب گزشتہ شب انصار الله کے ترجمان محمد عبد السلام نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے میں صرف یمن پر جارحیت روکنے کے بدلے میں اس کے بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانا شامل ہے۔ اس معاہدے کا صیہونی دشمن کے خلاف یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ محمد عبد السلام نے کہا کہ یمنی عوام کی جانب سے غزہ کی عوام کی حمایت بہتر طور پر آگے بڑھے گی کیونکہ صنعاء پر امریکی حملے، اسرائیل کی حمایت میں انجام دئیے گئے تھے اور اس ابتدائی سمجھوتے میں امریکیوں کا غزہ کی حمایت میں ہمارے موقف سے کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ یمن، غزہ کی مدد سے پیچھے ہٹ جائے گا۔


































