
بیروت : بیروت میں ریلی پر فائرنگ کا ایک اور زخمی چل بسا جس سے جانبحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی، واقعہ کیخلاف لبنان میں جمعہ کو سرکاری سطح پر یوم سوگ منایا گیا۔ ملک بھر کے سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ لبنانی فوج نے فائرنگ میں ملوث افراد کی تلاش میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور9 افراد کو گرفتار کرلیا۔ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حزب اللہ اور تحریک امل کے سینکڑوں حامی، بیروت دھماکوں کی تحقیقات کرنے والی عدالت کے جج طارق بیطار کی ناقص کارکردگی کے خلاف پر امن احتجاج کے لیے جمع تھے۔ حزب اللہ اور امل تحریک نے بھی مظاہرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کا تعلق القوات اللبانیہ نامی ملیشا سے ہے۔ حزب اللہ اور امل نے اس حملے کو مجرمانہ فعل قرار دیا ہے جس کا مقصد ملک کے امن اور استحکام کو درھم برھم کرناہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار اور قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر میشل عون نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ کسی صورت قابل قبول نہیں اور ان کی حکومت آزادی اظہار کو یقینی بنائے گی۔ اس قسم کی مشکلات کا حل، آئین اور قانون کے مطابق نکالا جائے گا اور کابینہ ضروری اقدامات عمل میں لائے گی۔ ملک کو ماضی کی جانب دھکیلنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔


































