
واشنگٹن : امریکا میں انتخابی مہم کے دوران قرآنِ کریم کی توہین کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ہے۔ امریکی امیدوار جیک لینگ نے اپنی انتخابی تشہیری ویڈیو میں قرآنِ کریم کی ایک کاپی سور کے منہ میں رکھ کر دکھائی۔ اس اقدام کو مسلم حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مذہبی توہین اور نفرت انگیزی قرار دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو محض انفرادی حرکات نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اسلام اور مسلم شناخت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کا تسلسل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی مقاصد کے لیے مقدس مذہبی علامات کو نشانہ بنانا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔
گذشتہ سال ٹیکساس میں ریپبلکن امیدوار ویلینٹینا گومز کی جانب سے قرآنِ کریم کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔


































