
مظفرآباد: آزاد کشمیر میں گزشتہ ایک برس سے بجلی کے بھاری بِلز اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور آج ڈڈیال شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔ ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں پولیس کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے بعد صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ڈڈیال کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس کے ہمراہ مظاہرین کو منتشر کرنے پہنچے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مئی کو ریاستی دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا اور مختلف شہروں میں اس کے لیے مہم چلائی جا رہی تھی۔ دوسری جانب حکومت اس لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہی تھی۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں کشمیر کے مختلف شہروں میں پولیس کا فلیگ مارچ بھی ہوا اور محکمہ صحت نے 11 مئی کو ہسپتالوں کے عملے کو حاضر رہنے اور ایمرجنسی وارڈز کے 25 فیصد بیڈ خالی رکھنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اس کئے علاوہ ریاست بھر میں دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے۔


































