
وارانسی : بھارتی عدالت نے وارانسی کی قدیم اور تاریخی حیثیت کی حامل ’’گیانواپی مسجد‘‘ کے سِیل بہ مہر تہہ خانے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دیدی۔ بھارتی شہر وارانسی میں عدالت نے ہندوؤں کو گیان واپی مسجد کے بند تہہ خانے میں عبادت کی اجازت دیدی۔
وارانسی کی مقامی عدالت نے فیصلہ دیا کہ ہندو عقیدت مند گیان واپی مسجد کے اندر ممنوعہ علاقے ویاس جی کے تہہ خانے میں پوچا کرسکتے ہیں۔ عدالت نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ہندو عقیدت مندوں کی پوجا کے لیے ضروری انتظامات کریں اور شری کاشی وشوناتھ مندر ٹرسٹ سے اس کے لیے ایک پجاری کو نامزد کرنے کو کہا۔ عدالت نے حکم دیا کہ مسجد کے تہہ خانے میں داخلے کو روکنے کے لئے نصب رکاوٹیں ہٹانے کے انتظامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اے ایس آئی سروے کے دوران تہہ خانے کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ گیان واپی کیس میں ہندو فریق کے وکیل سدھیر ترپاٹھی نے عدالت کو بتایا کہ 1993 میں وہاں پوجا ہوتی تھی۔ ملائم سنگھ کی اس وقت کی حکومت نے بغیر کسی مجاز عدالت کے حکم کے اس کو لوہے کی باڑھ سے گھیر کر پوجا کو روک دیا تھا۔


































