
مسقط :امریکا عالمی امور کو طاقت کے استعمال کے ذریعے جنگل کے قانون کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مسقط میں ثالثی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کو اہمیت دی ہے حتیٰ کہ امریکہ نے بلواسطہ مذاکرات میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کیں۔ عراقچی نے بتایا کہ اس سال عمان کی ثالثی میں پانچ راؤنڈ غیر مستقیم مذاکرات نے فریقین کو سمجھوتے کے بہت قریب پہنچا دیا تھا، لیکن واشنگٹن نے تجویز کردہ حل کو مسترد کر دیا اور سفارتی راستے کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی فریق باہمی مفادات پر مبنی منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہو تو ایران ضرور اس پر غور کرے گا، کیونکہ ایران کبھی بھی مذاکراتی میز نہیں چھوڑتا۔ عراقچی نے خبردار کیا کہ امریکی عسکریت پسندی کے سبب بین الاقوامی تعلقات میں طاقتور فریق کی حکمرانی غالب ہوتی جا رہی ہے، جبکہ حقیقی امن صرف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔


































