
صنعا : انصار اللہ یمن کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا صیہونی رجیم کی حمایت میں یمن کے خلاف حملے کر رہا ہے۔ عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یمن کے خلاف امریکی جارحیت صیہونی حکومت کی حمایت میں ہورہی ہے اور یہ ہمارے اور تل ابیب کے درمیان موجودہ جنگ کا حصہ ہے۔ انہوں نے لبنان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے بارے میں یہ کہوں گا کہ صیہونی دشمن اس ملک کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ دشمن نے اس ہفتے لبنان میں نئی جگہوں پر قبضہ کیا ہے۔ لبنان کا کمزور سرکاری مؤقف بتاتا ہے کہ ملک میں مزاحمت کا کردار کتنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں مزاحمت صیہونی دشمن کے خلاف ایک حقیقی ڈھال کے طور پر کام کر رہی ہے اور اگر مزاحمت نہ ہوتی تو صیہونی لبنان پر مکمل قبضہ کرچکے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حزب اللہ اور اس کے سیکریٹری جنرل کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک طاقتور خطاب کے ذریعے دشمن کو خبردار کیا اور ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ صیہونی جارحیت کے خلاف ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یمن کی انصاراللہ کے سربراہ نے شام کے بارے میں کہاکہ ہم ابھی تک اس ملک میں صیہونی حکومت کی جارحیت اور قبضے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مصر کے حوالے سے میں یہ بھی کہوں گا کہ مجرم ٹرمپ مصر کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ اس نے نہر سویز کے حوالے سے بیانات دیے تھے۔ امریکہ اور صیہونی حکومت کی توسیع پسندی ہر کسی کو نشانہ بناتی ہے اور کوئی بھی اس جارحیت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تیسرے ہزاریے کے آغاز کے ساتھ ہی صیہونی، امت اسلامیہ کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔


































