
واشنگٹن : امریکا نے پاکستان، چین، ایران، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقا کی 80 کمپنیوں کو برآمدات کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا۔ بلیک لسٹ میں شامل کمپنیوں میں 50 سے زائد چینی ۔ 19 پاکستانی جبکہ متحدہ عرب امارات اور ایران کی چار چار کمپنیاں شامل ہیں۔ امریکا نے روس کی بھی دو کمپنیاں بلیک لسٹ کردی ہیں۔
امریکی وزیرِ تجارت کا کہنا ہے کہ حریفوں کو امریکی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے فوجی طاقت بڑھانے اور امریکی شہریوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
چینی سفارتخانے نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ امریکا فوجی امور کو بہانہ بنا کر تجارت اور ٹیکنالوجی کے معاملات کو سیاسی رنگ دینے اور انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے پاکستانی کمپنیوں پر اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہوں۔ 2024 میں امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک کمپنیوں پر بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی تھیں۔
2021 میں بھی امریکا نے پاکستان کی 13 کمپنیوں پر جوہری اور میزائل پروگرام میں معاونت کے الزامات لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔ 2018 میں 7 پاکستانی انجینئرنگ کمپنیوں کو امریکی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، امریکی پابندیاں نہ صرف پاکستان اور چین کی دفاعی اور تجارتی صنعت کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اقتصادی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔


































