
غزہ : صیہونی فوج نے ایک بار پھر گنجان علاقے النصیرات پناہ گزین کیمپ پر بم برسادئے۔ حملے میں چالیس فلسطینی شہید اور سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ جنگی طیاروں نے نصیرات میں بارہ رہائشی عمارتوں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا جس سے وہ تباہ ہوگئیں۔ امدادی کارکنوں نے چالیس لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کیں جس میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ خان یونس۔زیتون۔بیت الاحیہ میں اسرائیلی حملوں میں بھی پچاس سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق مجموعی شہادتیں ساڑھے اکتیس ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔
ادھر دنیا کی مخالفت کے باجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے رفح پر حملے کے منصوبے پر دستخط کردیئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح حملے کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں ۔لیکن پندرہ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے شہر سے انخلا اور ان کی متبادل اور محفوظ مقامات آباد کاری پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ رفح پر حملہ نیتن یاہو کے نسل پرست ہونے کا ثبوت ہے اور اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے نسل کشی کے شوق کی تسکین کی علامت ہے۔


































