
بغداد : ممتاز شیعہ عالم محمد باقر الصدر اور ہمشیرہ کی شہادت کو 45 سال گزر چکے ہیں لیکن اس حوالے سے اب نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ عراقی نیشنل سکیورٹی سروس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سابق اعلیٰ سطح کی سکیورٹی اہلکار کو 1980 میں مرحوم صدر صدام حسین کی جانب سے شروع کی گئی وحشیانہ جبر کی مہم کے دوران شہید باقر الصدر کو سزائے موت دینے میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا۔
ایجنسی کے ترجمان ارشد الحاکم نے کہا ہے کہ اس مقدمے میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جن کی قیادت سابق میجر جنرل سعدون صبری جمیل القیسی کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح طور پر شہید باقر الصدر اور ان کی بہن کے خلاف اپنے ذاتی ہتھیار سے سزائے موت کو انجام دینے کا اعتراف کیا۔
اسی طرح اسلامک دعوۃ پارٹی سے تعلق کے الزام میں مخالفین کو اجتماعی سزائے موت دی گی۔ 8 شہریوں کو قتل کرکے انہیں فلوجہ اور جسر دیالہ میں اجتماعی قبروں میں دفن کرنے کا کہا گیا۔ ال الحکیم کے 2 نوجوانوں کو سزائے موت دینے اور ناصریہ کی دلدل سے ایک مخالف رکن کے قتل کا بھی اعتراف کیا گیا۔


































