
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے افغانستان کے شہر ہرات میں مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں دہشت گردوں نے ہزارہ قبیلہ کو مدت سے تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ افغانستان حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ افغانستان میں بسنے والے ہر شہری کو بلا تخصیص مذہب و مسلک مکمل تحفظ فراہم کرے۔شیعہ بالخصوص ہزارہ قبائل کی منظم نسل کشی افغانستان کی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ موجودہ حکومت اس داغ کو دھونے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میں غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک اور ان کے صبر کے لیے دعاگو ہوں۔ واضح رہے کہ ہرات میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے عالم دین شیخ جاوید اور ان کے بچوں سمیت سات افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ان شہداء میں 3 سالہ کمسن بچہ بھی شامل ہے۔


































