
واشنگٹن : امریکی انٹیلیجنس نے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کو غلط قرار دے دیا، حالیہ امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، گزشتہ پانچ ہفتوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں یکطرفہ حملہ آور ڈرونز بھی موجود ہیں۔ یہ بات تین باخبر ذرائع نے سی این این کو بتائی ہے۔
سی این این ذرائع کے مطابق ایران اب بھی خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک ذریعے نے کہا کہ ایران مکمل طور پر تیار حالت میں ہے اور پورے خطے میں شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ایران کی ڈرون صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد حصہ اب بھی برقرار ہے، جبکہ اس کے ساحلی دفاعی کروز میزائلوں کی بڑی تعداد بھی محفوظ ہے۔
یہ میزائل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو خطرے میں ڈالنے کی اہم صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خفیہ معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر حکام کے ان دعوؤں سے مختلف تصویر پیش کرتی ہیں جن میں مکمل فوجی برتری کا تاثر دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور اس کے ہتھیاروں کے کارخانے تباہ کیے جا رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک ایران کے اندر 12,300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی سیکرٹری ڈیفنس نے ایک بریفنگ میں کہا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد کمی آ چکی ہے، تاہم انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل اور دیگر جنگی صلاحیتیں موجود ہیں۔


































