
جنیوا : اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی ہمدردی کی ایک خوفناک صورتحال کا سامناہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے چیف آپریٹنگ آفیسر کارل اسکائیو نے کہا کہ ہر دس افغان خاندانوں میں سے نو مناسب خوراک کے فقدان کا شکار ہیں اور بچے اور حاملہ خواتین سب سے زیادہ متاثر ہور ہے ہیں۔ اس خوفناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ جب کہ ہم اب تک صرف اس رقم کا لگ بھگ 10 فیصد حاصل کرسکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم وہاں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں لیکن اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ فنڈز کی کمی ہے۔ طالبان کی جانب سے خواتین ورکر پر پابندی کی وجہ سے ہمیں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک بیس سال کی جنگ سے گزرا ہے اور اب اس کی معیشت تباہ ہونے کو ہے اور وہاں کے عام لوگ بین الاقوامی امداد کے بغیر گزارا نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل تیسرا موسم سرما ہوگا جس میں خوراک اور ایندھن کی کمی ہو گی۔ نصف آبادی کو بحران یا خوراک کی ہنگامی درجے کی قلت کا سامنا ہو گا، صورتحال بہت گھمبیر ہے ۔


































