
اسلام آباد: آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات پر غیرسرکاری ترقیاتی تنظیم "پتن” نے رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں آمریت مزید زور پکڑ رہی ہے۔ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد آئین کے ڈھانچے اور روح کو مسخ کرنے کے اقدامات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق عدلیہ کو محکوم ، میڈیا، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو دبانے کے اقدامات ہوئے۔ الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے آڈٹ میں انتہائی تشویش ناک رجحانات سامنے آئے۔
انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن ستمبر 2024 تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کرتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق کچھ حلقوں میں ووٹنگ کی شرح 100 فیصد سے بھی زیادہ تھی جو ناممکن ہے۔ ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل چوری شدہ عوام کے مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں۔
پتن رپورٹ کے مطابق نتائج تبدیل کرنے کا رجحان پنجاب اور کراچی میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پانچ درجن سے زائد مخصوص نشستیں ابھی تک خالی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دن اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد ’مثبت‘ نتائج حاصل کرنا تھا، ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل چوری شدہ عوام کے مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں۔
پتن رپورٹ کے مطابق پیکا کا نفاذ اور 26 ویں آئینی ترمیم وغیرہ اس کی مثال ہیں، پتن نے سفارش کی ہے کہ عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔
واضح رہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کر رکھا ہے کہ جماعت اسلامی 8 فروری کو یوم سیاہ منائے گی اور کراچی میں الیکشن کمیشن آفس سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، انہوں نے مطالبہ کیا انتخابات کے نتائج پر جوڈیشل کمیشن بنایاجائے، فارم 45 کے مطابق جیتنے والی جماعت کو نشستیں دی جائیں۔


































