
سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی۔ صنم جاوید۔ شوکت بسرا۔ عمر اسلم اور طاہر صادق سمیت پانچ رہنماؤں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے مفرور ہونے کی بنا پر کسی کو اس سے نہیں روکا جا سکتا۔ نہ ہی اشتہاری کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جاسکتے ہیں۔ عدالت نے الیکشن ٹربیونل اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن ایکٹ کی ایسی تشریح کرنی ہے جو عوام کو مرضی کے نمائندے منتخب کرنے سے محروم نہ کرے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کون لڑے گا کون نہیں۔ یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے، الیکشن کمیشن نے نہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔ الیکشن کمیشن کے حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بیلٹ پیپرز کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔


































