
تل ابیب : اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے 1967 کے بعد رواں سال کو فلسطینیوں کے لیے سب سے ہلاکت خیز اور تباہ کن سال قرار دیا ہے۔ تنظیموں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں شہادتیں چھتیس ہزار تھیں جو رواں سال اکتوبر تک سڑسٹھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں۔
غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے قتل و بے دخلی کی کارروائیاں تقریباً دوگنا کر دیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں شہری آبادی کے لیے غیر معمولی پیمانے کی تباہی کا باعث بنی ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں تک نمایاں رہیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے انیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے کئی لوگ کئی بار بے دخلی کا شکار ہوئے اور بنیادی سہولیات تباہ ہو گئیں۔ رپورٹ میں کم از کم 98 فلسطینی قیدیوں کی ہلاکتیں درج ہیں جو اسرائیلی حراست میں تشدد، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی، اور غیر انسانی حالات کے باعث ہوئیں۔


































