
سیالکوٹ : پنجاب پولیس نے سری لنکن فیکٹری منیجر کو توہین مذہب کے الزام میں جان سے مارنے والے دو مرکزی ملزمان سمیت 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ فرحان ادریس اور عثمان رشید نے میڈیا کے سامنے اپنے وحشیانہ جرم کا اعتراف کیا تھا۔ اور کہا تھا توہین رسالت کے مجرم کاسرقلم کرنے کاحکم ہے۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران دونوں ملزمان اور ان کے ساتھ کھڑے افراد نے ٹی ایل پی کے نعرے بھی لگائے۔ ڈی پی او سیالکوٹ نے 10 ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو فوٹیج کی مدد سے مزید ملزمان کی شناخت کر کے اُنہیں حراست میں لیں گی۔ آر پی او گوجرانوالہ عمران ارحم نے بتایا کہ بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے۔ ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے ٹویٹر میں اپنے بیان میں بتایا کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کا عمل جاری ہے۔


































