
بچوں کی صحت اور تعلیم کے شعبے کیلئے کام کرنیوالے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد طے پایا ہے کہ دونوں فریق مل کر افغانستان میں 4000 تعلیمی مراکز تعمیر کرینگے۔ دوسری جانب افغان طالبان اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے درمیان معاہدے کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ یہ تنظیم تقریباً 200 صحت کے مراکز اور کلینک بھی تعمیر کرے گی۔ افغان طالبان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان طالبان کی شیڈو گورنمنٹ امارت اسلامی کے تعلیم و صحت کمیشنوں اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے دونوں معاہدوں کی باضابطہ طور پر تائید کی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ امارت اسلامیہ نے بار بار کہا ہے کہ افغان طالبان دینی اور عصری تعلیم کی ترقی کو اولین ترجیح اور اہمیت دیتے ہیں، لیکن یہ مسلط شدہ جنگ، جارحیت اور کابل کی کرپٹ اور کٹھ پتلی حکومت کے زہریلا پروپیگنڈے اور سازش تھی، جس کیوجہ سے بین الاقوامی اور عوامی ذہنیت کو گمراہ کیا گیا تھا اور ہمیں جدید عصری تعلیم کی راہ اور ترقی میں رکاوٹ قرار دیا تھا، تعلیم و صحت کے میدان میں اپنے حالیہ اقدامات سے ثابت کردیا ہے کہ جارحیت کے خاتمے کے ساتھ ہی مسلسل اقدامات کے ذریعے اللہ تعالی کی مدد سے متاثرہ عوام کی ترقی، خوشحالی، تعمیر نو، سلامتی، استحکام اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے مزید خوشخبریاں سنائیں گے اور سب مثبت رجحانات کا مشاہدہ کریں گے۔


































