Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

یورپی یونین میں 92 ملین سے زائد افراد غربت کا شکار ہیں، اقوام متحدہ

یورپی یونین میں 92 ملین سے زائد افراد غربت کا شکار ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی جانب سے سے یورپین دارالحکومت برسلز میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انتہائی غربت و ہیومن رائٹس اولیوئیر ڈی سخوتر نے برسلز پریس کلب میں ایک آن لائن پریس کانفرنس میں جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطابق یورپین یونین میں ہر 5 میں سے ایک شخص یا مجموعی آبادی کا 21.1 فیصد 2019ء میں غریب ہونے اور اس کے نتیجے میں سماجی اخراج کے خطرے کا سامنا کر رہا تھا۔ ان اعداد و شمار کے حساب سے یہ تعداد 92.4 ملین افراد بنتی ہے۔ اس میں 19.4 ملین بچے اور 20.4 ملین مزدور بھی شامل ہیں۔ مسٹر اولیوئیر نے اقوام متحدہ کی جانب سے یہ رپورٹ مختلف ای یو انسٹیٹیوشنز کے اپنے آفیشل دورے کے اختتام پر پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی وباء COVID-19 نے ایسے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے جنہوں نے پہلے کبھی بھی اپنی زندگی میں غربت کا سامنا نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہ اس دورے کے دوران ان کی ایسے لوگوں سے گفتگو ہوئی جنہوں نے پہلی مرتبہ بھوک دیکھی۔ ان کے غریب ہونے کا پتہ اس وقت چلا جب وہ بے گھر ہو گئے۔ ان کے ساتھ صرف غربت کے باعث ہی بدسلوکی اور زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وباء کے باعث ای یو کی جانب سے 2020ء تک اپنے 20 ملین شہریوں کو غربت سے باہر نکالنے کے عزم کو بڑی حد تک دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ نے نشاندہی کی کہ ایک طویل عرصے سے جاری معاشی ترقی اور روزگار میں اضافے کے باوجود اس صورتحال کا سامنے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں سماجی امداد یکساں تقسیم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے اسے سماجی انصاف کی شکست قرار دیا۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انتہائی غربت و انسانی حقوق نے 25 نومبر سے 28 جنوری تک یورپین یونین کے بہت سے اداروں کا دورہ کرنے کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، تارکین وطن اور آبادی کے مختلف طبقات سے ملاقات کی اور ان سے مزید آگاہی حاصل کی۔

مزید پڑھیے

Most Popular