
یمن کی نجات ملی حکومت کے وزیر صحت طه المتوکل نے کہا ہے کہ گزشتہ 6 سالوں کے دوران یمن کے نہتے اور بے گناہ شہریوں پر سعودی اتحاد کے حملوں کے دوران 523 ہسپتال اور طبی مراکز تباہ ہوئے ہیں۔
یمن پر سعودی جارحیت کے دوران مجموعی طور پر 9 ہزار 552 بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 15 ہوائی اڈے، 16 بندرگاہیں، 305 بجلی گھر، 545 کمیونیکشن مراکز اور523 ہسپتالوں اور طبی مراکز تباہ ہوئے ہیں۔ جبکہ سعودی جارحیت میں ایک ہزار 99 تعلیمی مراکز، 133 جم خانوں اور کھیل کے میدانوں، 245 آثار قدیمہ اور 47 ذرائع ابلاغ کے دفاتر کو بمباری کرکے تباہ کیا گیا۔
وحشیانہ جارحیت میں 5 لاکھ 59 ہزار 283 رہائشی مکانات کو بھی تباہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لاکھ لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوگئے اور کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ سعودی اتحاد کی جارحیت میں اب تک 43 ہزار یمنی شہری شہید و زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے مارچ 2015 سے یمن کے خلاف وحشیانہ جارحیت کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہے امریکہ اور بعض مغربی ممالک اس جنگ میں سعودی عرب کو سیاسی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بعض دوسرے عرب ممالک اس کے اتحادی ہیں۔


































