
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی کے خوف سے اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے جب کہ امریکا کے ساتھ امن میں تو شراکت دار ہوسکتے ہیں لیکن جنگ میں نہیں، وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لا الہ الااللہ غیرت دیتا ہے اور کوئی ملک غیرت کے بغیر نہیں اٹھتا، جو اللہ کے سامنے جھکتا ہے وہ کسی سپر پاور کے سامنے نہیں جھکے گا، ہم نے امریکا کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا جس سے زندگی میں سب سے زیادہ ذلت محسوس ہوئی، امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی حماقت کی، امریکا نے جو کہا وہ ہم کرتےرہے، میں نے کہا ہم دوسروں کی جنگ کا حصہ کیوں بنیں، ہم اپنے لوگوں کی جانوں کی قربانیاں دوسرے ملک کے لیے کیوں دیں، جب کہا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا، عمران خان نے مزید کہا کہ امریکا ڈرون حملے پاکستان کی حکومتوں کی اجازت سے کرتا رہا جسے ہماری حکومتیں چھپاتی رہیں، 30 سال سے لندن میں ہمارا دہشت گرد بیٹھا ہے، اسے مارنے کے لیے کیا برطانیہ ہمیں اجازت دے گا کہ پاکستان لندن میں ڈرون حملہ کرے؟ کبھی نہیں، تو پھر ہم کیوں اجازت دیتے رہے، دنیا نے نہیں ہم نے خود اپنے آپ کو ذلیل کیا، اس سے ہم نے ایک سبق سیکھا ہے کہ کبھی اس قوم نے کسی کے لیے کسی خوف سے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا، میں نے امریکا کو فوجی اڈے دینے سے صاف انکار کردیا ہے، انہوں نے بتایا کہ امریکی جنگ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، 70 ہزار افراد شہید ہوئے، امریکی جوکہتے رہے مشرف حکومت کرتی رہی، مشرف نے کتاب میں لکھا پیسے لے کرلوگوں کوامریکیوں کے حوالے کیا، ان کا مزید کہنا تھاکہ امریکا افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا تھا ہمیں برا بھلا کہا گیا، ہم پر افغان معاملے میں دُہری پالیسی کا الزام عائد کیا گیا، ہم افغانوں کو جانتے ہیں، ہمارے بھائی ہیں، انہوں نے کبھی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی، امریکا نے افغانستان سے جانے کی تاریخ دے دی، ہمیں کہا جارہا ہے کہ طالبان کوٹیبل پرلے آئیں، انہوں نے کہا کہ میں پھر سے کہتا ہوں جو قوم اپنی عزت نہیں کرتی تو دنیا اس کی عزت نہیں کرتی، مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان، امریکا کو فضائی اڈے دے گا؟ میں ان سے یہ پوچھوں کہ جب ہم نے اتنی خدمات پیش کیں، ہمارے 70 ہزار لوگ مارے گئے، اپنے ملک کے 150 ارب ڈالر کا نقصان کردیا، کیا انہوں نے ہماری تعریف کی؟ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا؟ بلکہ پاکستان کو برا بھلا، دوغلہ کہا اور افغانستان جنگ میں ناکامی کا ملبہ بھی ہم پر ڈالا، یعنی ہماری تعریف کرنے کے بجائے ہمیں ہی برا بھلا کہا گیا تو اس سے ہم نے ایک سبق سیکھا کہ کبھی اس قوم نے کسی کے لیے اپنی خودمختاری پر سمجھوتا نہیں کرنا۔


































