آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی بیہودہ ہنسنے اور کاہلی کی مذمت کے سلسلے میں پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : ” جان لو! تم میں دو ناپسند صفتیں ہیں: ان میں سے ایک قابل تعجب ہنسی(بلاوجہ ہنسنا) اور دوسرے عمداً کاہلی جو سہواً و نسیاناً نہ ہو۔“ پیغمبر اسلام مومنین کو گوش گزار کررہے ہیں کہ ان میں دو ناپسند صفتیں موجود ہیں کہ جو بیشتر غفلت اور خوف و خشیت کے کم رنگ اور ضعیف ہونے کا سبب ہے۔ مومنوں کو ان دوناپسند صفتوں کا علاج کرنا چاہیے۔ ان دو صفتوں میں سے ایک بے جا ہنسنا ہے۔ بسااوقات انسان تعجب خیز اور خندہ دار مطالب سے دو چار ہوتا ہے۔ اس صورت میں طبعی طور پر اسے ہنسی آجاتی ہے۔ اگرچہ خدا کو یاد رکھنے والے افراد خندہ آور مناظر کو دیکھ کر ہونتوں پر صرف تبسم ظاہر کرتے ہیں اور قہقہہ نہیں لگاتے۔ بعض بزرگوں کے سامنے جب کوئی خندہ آور داستان (لطیفہ ) نقل کی جاتی تھی یا کسی تعجب آور روداد سے روبرو ہوتے تھے وہ تبسم کرتے تھے لیکن ان کی توجہ کہیں اور ہوتی تھی اور روئیداد کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرتے تھے لہٰذا اس روداد کا خاص اثر ان پر ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ امام جعفر صادق ؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں : ” بلاوجہ ہنسنا نادانی ہے، نیز حضرت ؑ نے اضافہ فرمایا: ایسے نہ ہنسا کرو کہ تمہارے دانت دکھائی دینے لگیں (خدانخواستہ) رسوا کن کردار کے مرتکب ہو جاﺅ اور جوبرے کام انجام دیتے ہیں وہ رات کی بلاﺅں سے آسودہ نہیں ہیں ۔“ اس حدیث میں حضرت امام صادق ؑ واضح طور پر فرماتے ہیں : ایسا شخص اپنے برے اعمال کے نتیجہ میں ، تاریک مستقبل اور خطرناک انجام کا منتظر ہے ہر لمحہ ممکن ہے اس پر کوئی بلا نازل ہو جائے، اس کا قہقہہ اور مستی میں ہنسنا بے جا ہے، ایسے ہنسنا کسی ایسے شخص کے لئے بجا ہے جو اپنے آئندہ سے مطمئن ہو اور اپنے انجام سے فکر مند نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاءاور اولیائے الہٰی بھی ایسی حالت اور ایسا اطمینان نہیں رکھتے تھے وہ صرف خدا کے فضل پر توکل رکھتے تھے۔ دل پر زیادہ ہنسنے کے اثرات کے بارے میں امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں : ” زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے، مزید فرمایا: زیادہ ہنسنا دین کو گھلا دیتا ہے جیسے پانی نمک کو گھلا دیتا ہے۔“ اس بنا پر بے جا ہنسنے سے کہ جس کے لئے کوئی عقلی دلیل نہ ہو پرہیز کرنا چاہیے۔ انسان کو اپنا منہ، زبان آنکھ اور کان کنٹرول میں رکھنے چاہیں۔ اگر انسان ہنسنا چاہتا ہے ، اسے دیکھنا چاہیے کہ ہنسنے کے لئے کوئی دلیل بھی موجود ہے یا نہیں، کیا کوئی ایسی بات جو ہنسنے کی موجب ہے پیش آئی ہے، یا یہ کسی بہانے سے ہنستا ہے۔ قابل ذکر بات ہے کہ خوش روئی ، ہمیشہ ہونٹوں پر تبسم کا ہونا ہے ایک مطلوب اور قابل قدر خصوصیت ہے۔ اجتماعی آداب میں سے یہ ہے کہ مومنین کو اجتماعات میں اور ایک دوسرے سے ملتے وقت تبسم ہونا چاہیے۔ اگرچہ ان کے دلغم و اندوہ اور خوف و خشیت سے بھرے ہوں۔ تاکہ دوسروں سے ملتے وقت وہ ان کی رنجش اور ناراضگی کا سبب نہ بنیں چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے: ” مومن کا چہرہ بشاش ہوتا ہے اور وہ غم کو دل میں پنہاں رکھتاہے۔“ یہ پرکشش تبسم اور مسکراہٹ اس قہقہہ اور ٹھٹھے لگانے کے علاوہ ہے جو مومن کی شان کے مناسب نہیں ہے بامقصد مومن خدا شناس ہوتا ہے، وہ اعمال وحرکات سے بے خبر نہیں رہتا اور نفسانی خواہشات کے مطابق حرکت نہیں کرتا ۔ پیغمبر اسلام اپنی امت کی جو دوسری ناپسند خصوصیت کے بارے میں ذکر فرماتے ہیں ، وہ کاہلی اور سستی ہے۔ کبھی انسان غفلت اور فراموشی کی وجہ سے کسی فریضہ کو انجام نہیں دیتا ، مثال کے طور پر کسی عبادت کو انجام دینا بھول جاتا ہے ، اس صورت میں وہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ۔ لیکن بعض اوقات توجہ دینے کے لحاظ سے فریضہ کے بارے میں سستی سے کام لیتا ہے، یہ خصوصیت ایک مومن کے لئے شائستہ نہیں ۔ مومن سے یہ توقع نہیں ہے کہ توجہ کے لحاظ سے فرائض کے بارے میں کوتاہی کرے۔ نماز اور اذان کی آواز سننے سے کوتاہی کرے اورباجماعت نمازمیں شرکت نہ کرے، یہ بے توجہی مومن کے لئے مناسب نہیں ۔ اس میں فرق نہیں ہے اس کی یہ سستی اور کاہلی واجب فرائض کے بارے میں ہو یا امر مستحب کے بارے میں ۔ علمائے یزد میں سے ایک شخص بنام مرحوم الحاج شیخ غلام رضا یزدی ؒ ایک بڑے سنجیدہ شخص تھے۔ ایک دن میں ان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ امام جماعت کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور نافلہ نہیں پڑھ رہے ، ناراض ہو کر فرمایا:” شیطان پر لعنت ہو، ڈرتے ہو کہ تمہیں بہشت میں لے جائیں گے! اٹھو اور نماز نافلہ پڑھو۔ جب انسان واجب نماز سے پہلے مسجد میں موجود ہو تو بہت مناسب ہے کہ نافلہ نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائے اور مومن کے لئے مناسب نہیں کہ اس اہم امر کے بارے میں بے توجہی کرے۔ یہ مطلب تمام امور کے بارے میں بھی صادق آتا ہے۔ کبھی بیماری یا دوسری کسی مشکل کی وجہ سے انسان مطالعہ نہیں کر سکتا لیکن کبھی کاہلی سستی اور آرام طلبی کی وجہ سے مطالعہ اور تحقیق سے ہاتھ کھینچتا ہے ۔ بنیادی طور پر کاہلی اورآرام طلبی ایک بڑی آفت ہے جو انسان کی بالیدگی اور ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے ہمیں اسے اپنے سے جدا کرنا چاہیے۔ عبادت میں تفکر کا اثر حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام فرماتے ہیں : ” اے ابوذر ؓ! دو رکعت نماز معمولی اگر تفکر کے ساتھ پڑھی جائے تو وہ غفلت کے عالم میں ایک رات عبادت میں بسر کرنے سے بہتر ہے۔“ تفکر اور غور و خوض کی اہمیت کے پیش نظر پیغمبر اسلام فرماتے ہیں کہ دو رکعت نماز جو معمولی صورت میں پڑھی جائے۔ نہ یہ کہ طولانی ہو۔ لیکن تفکر کے ساتھ ہو، انسان کے کمال کے لئے اس کا ثواب اور تاثیر اس سے زیادہ ہے کہ انسان پوری رات صبح تک حضور قلب کے بغیر عبادت میں گزارے۔ البتہ اگر انسان بڑی تیزی اور عجلت میں نماز پڑھے، تو بے شک اپنے فریضہ کوادراک اور بہتر صورت میں نماز کو ادا نہیں کر سکتا ۔ چنانچہ روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ تیزی کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کہ انسان کو اس میں تفکر و توجہ کا امکان نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوّا اپنی چونچ کو زمین پر مارتا ہے۔ یعنی یہ نماز تعمیری نہیں ہے ، جو توجہ کے بغیر انجام پاتی ہے اور اس قدر تیزی سے پڑھی جاتی ہے کہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے کہ حضور الہٰی کو ادراک کرے اور نماز کے معنی و مفاہیم کے بارے میں فکر کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ دو رکعت نماز لیکن توجہ کے ساتھ تکراری اور طولانی نماز سے بہتر ہے۔ چنانچہ مکرر کہا گیا کہ انسان کا سفر ایک علمی اور شعوری سفر ہے۔ انسان کی ترقی اور کمال اس کے ادراک میں اضافہ کی وجہ سے ہے دوسرے الفاظ میں انسان علم و شعور کے پاﺅں سے قرب الہٰی کی راہ میں قدم رکھتا ہے۔ اس کے خدا کے نزدیک ہونے کا معنی اس کا نقل مکان کرنا نہیں ہے کہ اس کا جسم ایک جگہ سے دوسری جگہ میں منتقل ہو جائے بلکہ اس کا خدا کے نزدیک ہونا اس کے شعور و توجہ مےں اضافہ ہونا اور صفات الہٰی کی عظمت کے بارے میں اس کے ادراک کی بالیدگی ہے کہ جس قدر اس کا ادراک و شعور زیادہ ہوگا اسی قدر وہ خدا سے نزدیک ہوگا۔ یہ سفر ایک علمی سفر ہے جو زیادہ سے زیادہ معرفت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اور اس کا ابتدائی مرحلہ اپنے بارے میں معرفت جس کے نتیجے میں خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مقابل جس قدر انسان کی معرفت کم ہوگی اور غفلت میں گرفتار ہوگا اسی اعتبار سے وہ تکامل و ترقی اور بالیدگی سے محروم رہے گا۔ نماز ایک تکاملی وار تقائی وسیلہ ہے اور یہ اس لئے ہے انسان خدا سے زیادہ قربت کا احساس کرے اور ادراک کرے کہ خدا کے نزدیک ہورہا ہے۔ لیکن اگر یہ نماز توجہ اور مقام الہٰی کے ادرک کے ساتھ نہ ہو تو نماز گزار کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ورزش میں مشغول ہوتا ہے کیونکہ وہ نماز کے مفاہیم و معنی سے بہرہ مند نہیں ہورہا ۔ البتہ بغیر توجہ نماز کی یہ قسم سونے سے بہتر ہے کہ انسان رات کو صبح تک سوتا رہے اور نماز سے محروم رہے یا خدانخواستہ رات بھر گناہ اور معصیت میں مشغول رہے ۔ یہی کہ انسان نماز کے لئے رات کو بیدار ہے۔ بذات خود ایک شائستہ کام ہے لیکن نماز میں توجہ اور حضور قلب ہونا چاہیے اس صورت میں اس کی سرعت بڑھ جاتی ہے اور جلدی ہی مقصد تک پہنچتا ہے اور اسی کو قرب الہٰی کہتے ہیں ۔