
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ٹرمپ کے حامی آپے سے باہر ہو گئے، مشتعل افراد کیپٹل ہل(امریکی ایوانِ نمائندگان) کی عمارت میں جا گھسے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگئی جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل کی عمارت کا گھیراؤ کیا، انتطامیہ نے نائب صدر مائیک پنس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور امریکی کانگریس کے دفاتر خالی کرالئے۔ کانگریس اجلاس سے قبل ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل کی عمارت پر حملہ کر دیا تھا۔ اس دوران پولیس سے جھڑپوں میں خاتون سمیت 4 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں صبح چھ تا رات چھ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
بعد ازاں امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی جیت کی توثیق کر دی جس کے بعد جوئیڈن امریکا کے 46 ویں آئینی صدربن گئے۔ کانگریس نے کمیلا ہریس کی بطور نائب صدر کےعہدے کیلئے بھی توثیق کی، جوبائیڈن اور کمیلا ہیرس 20 جنوری کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔
امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے ٹرمپ کی کال پر واشنگٹن میں اکٹھا ہونے والے انکے حامیوں کے انتہاپسندانہ اقدامات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ نو منتخب صدر جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کو بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار ٹرمپ ہے۔


































