مرکزی امام بارگا ہ جعفر طیار میں نماز جنازہ کے بعد وادی حسینؑ میں تدفین،وہ کافی عرصے سے علیل تھے ،جوان سال بیٹے کی موت کا غم بھی برداشت کرنا پڑا تھا
انقلابی تبدیلی نے انہیں نغمات چھوڑ کر حمد و سلام، نعت، نوحہ، منقبت اور مرثیے سے تعلق جوڑا،پاکستان کے رثائی ادب میں ان کی بڑی خدمات شامل
کراچی(نیوز ڈیسک) عالمی شہرت یافتہ شاعرِ اہلِ بیت ڈاکٹر ریحان اعظمی کراچی میں انتقال کرگئے ،انہیں مرکزی امام بارگا ہ جعفر طیار میں نماز جنازہ کے بعد وادی حسین میں سپرد لحد کردیا گیا،وہ کافی عرصے سے علیل تھے 26جنوری کی صبح طبیعت خراب ہونے پر انہیں کراچی کے آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن ان کی حالت سنبھل نہیں سکی اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے،ڈاکٹر ریحان اعظمی 7 جولائی 1958کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے، انتقال کے وقت ان کی عمر 63 برس تھی، دو سال پہلے ریحان اعظمی کو جوان سال بیٹے سلمان کی موت کا غم بھی برداشت کرنا پڑا تھا، ریحان اعظمی نے 1974میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، وہ طویل عرصہ پاکستان ٹیلی ویڑن سے بحیثیت نغمہ نگار وابستہ رہے اور اس عرصے میں انہوں نے 4 ہزار سے زائد نغمات سپردِ قلم کئے ،ایک دور ایسا آیا جب ان کے اندر ایک انقلابی تبدیلی آئی اور انہوں نے نغمہ نگاری سے ربط توڑ کرحمد و سلام، نعت، نوحہ، منقبت اور مرثیے سے تعلق قائم کر لیا ، جدید اردو ادب کی تاریخ کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ریحان اعظمی کے ذکرکے بغیر نامکمل ہے۔ وہ ایک استاد، صحافی اور قلمکار تھے، لیکن ان کی بنیادی پہنچان اور ان کا طرہ امتیاز شاعری خاص کر نوحہ اور مرثیے رہے، پاکستان کے رثائی ادب میں ان کی بڑی خدمات شامل ہیں، انہوں نے رثائی ادب میں 25 سے زائد کتابیں بھی تحریر کیں جن میں نوائے منبر، غم، آیاتِ منقبت اور ایک آنسو میں کربلا سمیت دیگر کئی کتب شامل ہیں،ریحان اعظمی نے عالمی اور قومی سطح پر کئی تمغے بھی اپنے نام کئے، عالمی سطح پر خاص طور سے اہل ادب اور پاکستانی عوام کی جانب سے ڈاکٹر ریحان اعظمی کے انتقال پر نہایت دکھ اور ملال کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
- Home
- خبریں
- قومی خبریں
- نوحہ وسلام کا ایک اور دور کا اختتام، ریحان اعظمی…
نوحہ وسلام کا ایک اور دور کا اختتام، ریحان اعظمی بھی نہ رہے
-
Ilyas - جنوری 28, 2021
- قومی خبریں
- 13
- 0 minute read


































