
فلسطینی قیدیوں کی دیکھ بھال کے سماجی ادارے "فلسطینی قیدی کلب” (Palestinian Prisoners Club) کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں اعلان کیا گیا ہے جاری سال 2020ء کی ابتداء سے لے کر تاحال غاصب صہیونی رژیم نے مزید 400 فلسطینی بچوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ فلسطینی اخبار "القدس العربی” کے مطابق فلسطینی پریزنر کلب نے 20 نومبر؛ عالمی یوم اطفال کے حوالے سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں سال غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے گرفتار کئے جانے والے 400 بچوں میں سے اکثر 18 سال سے کم عمر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غاصب صہیونی رژیم فلسطینی بچوں کی گرفتاری کے دوران انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی ہے جبکہ گرفتار شدہ بچوں کو پڑھائی مکمل کرنے اور جیل کے اندر اپنے گھر والوں سے ملاقات کے حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ فلسطینی پریزنر کلب کے مطابق غاصب صہیونی رژیم سال 2017ء کے بعد سے 7000 کمسن فلسطینی بچوں کو گرفتار کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے سال 2015ء میں جیلوں کے اندر قید فلسطینی بچوں پر مزید سخت احکامات لاگو کرنے کا ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس کے بعد سے غاصب صہیونی جیلوں میں قید اکثر فلسطینی بچوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جاری سال کے دوران گرفتار کئے گئے 400 فلسطینی بچوں کے علاوہ غاصب صہیونی رژیم کے جیلوں میں اس وقت کل فلسطینی قیدیوں کی تعداد 4 ہزار 500 نفر ہے جن میں 40 خواتین، 170 بچے اور 370 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جن پر تاحال کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔


































